بنگلورو،27؍اکتوبر(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) حکومت امریکہ کی دعوت پر حال ہی میں انٹرنیشنل وزیٹر لیڈر شپ پروگرام کے تحت پندرہ روزہ دورۂ امریکہ مکمل کرکے لوٹنے والے رکن کونسل رضوان ارشد نے وہاں پر ہوئے مشاہدات اور وہاں کے سیاسی حالات کا جائزہ لینے کے بعد آج یہ رائے ظاہر کی کہ ماضی کے مقابل موجودہ صورتحال میں امریکی معاشرہ میں نمایاں تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔اپنے 18دن کے دورہ میں رضوان ارشد نے امریکی راجدھانی واشنگٹن ، نیویارک، میری لینڈ ، ہوائی سمیت پانچ ریاستوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے اپنے مشاہدات کی بنیاد پر بتایاکہ امریکہ نے ہندوستان کے مقابل بھلے ہی غیر معمولی ترقی کرلی ہو لیکن وہاں کے سماجی مسائل ہندوستان سے مختلف نہیں ہیں۔ ہندوستان میں جس طرح وزیر اعظم مودی کامیابی کے باوجود عوام کی نظروں میں معتوب ہیں اسی طرح امریکی صدر ٹرمپ بھی کامیابی کے باوجود اپنے عوام کو مطمئن کرنے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔یہاں تک کہ انتخابات میں ٹرمپ کا ساتھ دینے والی عوام اب اپنے فیصلے پر پچھتا رہی ہے۔ ٹرمپ کی جیت میں ایک بڑا حصہ ووٹنگ کے تئیں امریکی نوجوانوں کی عدم توجہی کا رہا۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان کے مقابل امریکہ میں انہوں نے رواداری کے ماحول کو محسوس کیا اور وہ کہنے پر مجبور ہیں کہ آج ہندوستان میں حکومت مخالف خیالات کو جس طرح ملک دشمن خیالات قرار دیاجاتاہے ، امریکہ میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ عوام کو حکومت کے خلاف اپنی رائے ظاہر کرنے کی پوری آزادی حاصل ہے۔ ملک میں جہاں میڈیا نے حکومت کے دباؤ کے آگے گھٹنے ٹیک دئے ہیں ، امریکہ کا میڈیا آزادی سے اپنی ذمہ داری نبھارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں نوجوان نسل حکومت مخالف ہے یہی وجہ ہے کہ یکے بعد دیگرے بی جے پی کی حمایت یافتہ اے بی وی پی یونیورسٹیوں کے انتخابات میں شکست کھارہی ہے۔ امریکہ میں نسلی امتیاز کے واقعات میں کمی کو ایک نمایاں تبدیلی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں کے عوام کو احساس ہوچکا ہے کہ نسلی بنیاد پر ٹکراؤ سے کسی کا فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔ سیاہ فام اور سفید فام شہریوں کے درمیان باہمی تال میل میں اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے برعکس ہندوستان میں مذہبی بنیادوں پر حکمران طبقہ ہی نفرت کو بڑھاوا دینے کی جو کوشش کررہا ہے اس پر امریکی عوام بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔ رضوان ارشد نے بتایاکہ امریکہ کی نئی نسل اس حقیقت کو تسلیم کرچکی ہے کہ وجود باہمی کی حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔اسی لئے ان لوگوں نے افریقہ اور ایشا نژاد امریکیوں کو اپنالیا ہے۔ان تمام کے درمیان باہمی رشتے، تعلقات ، تجارت اور معاملات حسب معمول چلتے ہیں۔ مختلف نسلوں سے وابستہ بچے ایک ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں اور یہاں کے لوگوں نے مل جل کر جینا سیکھ لیا ہے۔ نئی نسل اگر یہاں طاقتور ہوجائے گی تو اس ملک کا جمہوری نظام اور مضبوط ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسا ہی ماحول ہمارے ملک میں بھی لایا جائے جہاں پر نوجوان طبقہ حقائق کو پہچانے اور وجود باہمی کے طریقۂ کار کو اپناتے ہوئے ملک کو امن کا گہوارا بنائیں۔ انہوں نے بتایاکہ ان کے ہمراہ دیگر آٹھ منتخب نمائندے بھی اس 18؍ روزہ دورہ میں شامل رہے۔ اس دورہ کے دوران انہوں نے امریکی کانگریس اور سینٹ کے نمائندوں سے ملاقات کی ، ساتھ ہی امریکہ کی دو اہم سیاسی جماعتوں اور ری پبلک کے دفاتر کا دورہ کیا اور وہاں کے ذمہ داروں سے تبادلۂ خیال کا موقع انہیں میسر آیا۔